غیرت یا جہالت؟ پاکستان میں خواتین کے حقِ زندگی پر حملے

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل اور خواتین کی اپنی مرضی سے شادی کے خلاف رویہ ایک سنگین المیہ ہے۔ معاشرے میں “عزت” کا ایسا مفہوم عام ہو چکا ہے کہ فرد کی ذاتی آزادی اور پسند کو کچل دینا فخر سمجھا جاتا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق صرف 2024 میں تقریباً 405 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، جو 2023 کے 226 واقعات کے مقابلے میں تشویشناک اضافہ ہے۔ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور بعض کو خودکشی یا حادثے کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں کئی واقعات نے ملک بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔ جولائی 2025 میں راولپنڈی کی 18 سالہ سدرہ بی بی کو اپنی پسند کی شادی کرنے پر اپنے والد اور سابق شوہر سمیت نو افراد کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے تشدد کا نشانہ بنا کر دم گھونٹ کر قتل کیا گیا۔ بلوچستان میں جولائی 2025 میں ہی ایک جوڑے کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں عورت کو سات بار اور مرد کو نو بار گولیاں ماری گئیں۔

حکام نے اس واقعے میں 14 افراد بشمول ایک قبائلی سردار کو گرفتار کیا۔ یہ صرف دیہی علاقوں کا مسئلہ نہیں؛ بڑے شہروں میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ جون 2025 میں اسلام آباد کی 17 سالہ ٹک ٹاک اسٹار ثناء یوسف کو اپنے گھر میں گولی مار دی گئی، اور اسی سال ایک اور 16 سالہ لڑکی کو اس کے والد نے محض اس لیے قتل کر دیا کہ اس نے اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے سے انکار کیا تھا۔

لاہور میں مئی 2014 میں فرزانہ پروین کو عدالت کے باہر سنگسار کر دیا گیا کیونکہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی؛ اس قتل میں والد اور بھائی سمیت متعدد لوگ شامل تھے اور کچھ کو سزائے موت بھی سنائی گئی۔

یہ واقعات صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ ایسی جانیں ہیں جو صرف اس لیے ختم کی جاتی ہیں کہ خواتین اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنا چاہتی ہیں۔ پنجاب پولیس کے مطابق لاہور میں 2011 سے 2023 کے دوران درجنوں غیرت کے نام پر قتل رپورٹ ہوئے، اگرچہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔ 2016

میں ایک اہم قانونی اصلاح یہ کی گئی کہ اب ایسے قاتل معافی لے کر سزا سے نہیں بچ سکتے، لیکن اس کے باوجود سوچ کا بدلنا ابھی باقی ہے۔ مسئلہ قانون کا نہیں بلکہ اس کے سماجی نفاذ اور قبولیت کا ہے۔

لوگ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ غیرت کے نام پر قتل کرتے وقت وہ ایک انسان کی جان لے رہے ہیں۔ قرآن پاک میں سورۃ المائدہ (5:32) میں فرمایا گیا: “جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے تمام انسانیت کو قتل کیا۔” لیکن معاشرے میں اس سنگین گناہ کو غیرت کے نام پر جائز سمجھ لیا جاتا ہے اور قاتل اکثر قانونی کمزوریوں، دباؤ یا راضی نامے کے ذریعے چھوٹ جاتے ہیں اور دندناتے پھرتے ہیں۔

اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں بچپن سے ہی برابری اور انسانی حقوق کے بارے میں تعلیم نہیں دی جاتی۔ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں نہ اسکولوں کے نصاب میں بچوں کو آئینی حقوق پڑھائے جاتے ہیں اور نہ ہی یہ سکھایا جاتا ہے کہ ہر شخص کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق ہے۔ تعلیم کے فقدان کے ساتھ ساتھ یہ رویہ پڑھ لکھے اور شہری گھرانوں میں بھی پروان چڑھایا جاتا ہے۔

گھروں میں مائیں اور بڑے یہی درس دیتے ہیں کہ عورت کی مرضی کو دبانا ہی خاندان کی غیرت ہے۔ اس ذہنیت کو بدلنے کے لیے محض قانون نہیں بلکہ شعور اور نصاب میں اصلاحات ضروری ہیں تاکہ آنے والی نسلیں یہ سیکھ سکیں کہ عزت اس میں نہیں کہ عورت کی آزادی سلب کی جائے بلکہ عزت اس میں ہے کہ اس کے انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔

پاکستان میں خواتین کے حقوق کا استحصال آج بھی ایک تلخ حقیقت ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ دینِ اسلام کی اصل روح سے دوری اور جہالت ہے۔ اسلام نے صدیوں پہلے عورت کو وہ مقام عطا کیا جو دنیا کے کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔ قرآنِ مجید میں سورۃ النساء (4:4) میں واضح حکم دیا گیا: “وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً” یعنی عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی سے دو۔ اسی سورۃ کی آیت (4:7) میں عورت کو وراثت میں حق دیا گیا، لیکن ہمارے معاشرے میں آج بھی یہ حق چھینا جاتا ہے۔

نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: “بیوہ عورت کا نکاح اُس کی مرضی کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری لڑکی کا نکاح بھی اُس کی اجازت کے بغیر نہ کرو” (صحیح بخاری)۔ افسوس کہ ہمارے ہاں لڑکیوں کی رضامندی کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے اور خاندانی دباؤ اور جھوٹی غیرت کے نام پر ان کی زندگیاں اجیرن کر دی جاتی ہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے دین کی اصل تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر ہندووانہ رسوم اور فرسودہ روایات کو اپنایا ہوا ہے۔

اگر ہم قرآن و سنت کی روشنی میں عورت کے مقام اور اس کے بنیادی حقوق کو سمجھیں اور معاشرے میں نافذ کریں تو ہی خواتین کو حقیقی عزت اور ان کا جائز مقام مل سکتا ہے، اور معاشرہ انصاف اور سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

خواتین کو اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق دینا کسی خاندان کی بے عزتی نہیں بلکہ انسانی وقار کی بنیاد ہے۔ جب تک ہم نصاب، میڈیا، اور گھریلو تربیت کے ذریعے یہ سبق نہیں دیتے کہ برابری اور انسانی حقوق سب کے لیے ہیں، تب تک غیرت کے نام پر ہونے والے یہ جرائم ختم نہیں ہوں گے۔ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرنی ہوگی جہاں محبت، انتخاب اور زندگی کے فیصلوں کا حق جرم نہ ہو بلکہ عزت اور فخر کا باعث ہو۔

پاکستان، خصوصاً پنجاب میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو محض نمائشی اقدامات سے آگے بڑھ کر سنجیدہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ جب کسی خاتون کے استحصال کا کیس رپورٹ ہو جائے تو فوری اور مؤثر کارروائی ہونی چاہیے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دلوانی چاہیے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا سبب بن سکے۔

بدقسمتی سے ایسے سنگین جرائم کے مجرموں کے ساتھ نرم رویہ ہی خواتین کے استحصال کو مزید فروغ دے رہا ہے۔ محض کاسمیٹک ریفارمز جیسے پنجاب وومن سیفٹی ایپ یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اُس وقت بے اثر ہو جاتے ہیں جب دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین کے پاس اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ تک رسائی ہی موجود نہیں ہوتی۔

اکثر اوقات عورتوں کو رپورٹ کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فعال اور سخت گیر قوانین بنائے، ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، پولیس اور عدلیہ کو خواتین کے تحفظ کے معاملے میں خصوصی تربیت دے اور ایسے نظام قائم کرے جو ہر طبقے کی خواتین تک پہنچ سکے۔ صرف اسی طرح معاشرے میں خواتین کو حقیقی تحفظ اور انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے۔

📍 English Language Educator | Blogger & Content Strategist | 7+ Years in Educational Blogging

Nosheen Bashir is a dedicated English teacher and experienced blogger with over seven years of expertise in content creation and educational writing. Passionate about language, literature, and effective communication, she combines her teaching experience with blogging skills to create insightful, research-backed content that helps learners and educators alike.

🔹 Expertise & Achievements:
✔ English Language Education: A skilled educator with years of experience in teaching English grammar, literature, and communication skills to students of varying levels.
✔ Educational Blogging: Running a successful blog for 7+ years, delivering well-structured, engaging content on language learning, writing techniques, and academic success.
✔ SEO & Content Strategy: Specializes in creating high-ranking, authoritative articles that follow Google’s EEAT principles, ensuring content that is both informative and search-friendly.
✔ Student-Centric Approach: Committed to making English easier, engaging, and accessible, helping readers and students improve their language proficiency.

🚀 With a passion for teaching and writing, Nosheen Bashir is dedicated to crafting educational content that empowers students, teachers, and language enthusiasts worldwide.

Share This Post:

Discussion

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *