پنجاب اس وقت شدید سیلابی خطرے سے دوچار ہے۔ غیر معمولی مون سون بارشوں اور بھارتی جانب سے بندوں کا اضافی پانی چھوڑنے کے باعث دریائے چناب، راوی اور ستلج کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی اضلاع زیرِ آب آچکے ہیں اور ہزاروں افراد اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔
سب سے پہلے دریاؤں کے بہاؤ کی بات کریں تو ہیڈ مارالہ پر دریائے چناب کا بہاؤ 9 لاکھ کیوسک سے بھی تجاوز کر گیا ہے جس کے باعث ضلع کوٹ مومن شدید خطرے کی زد میں ہے۔ مزید برآں دریائے راوی پر جسر اور شاہدرہ کے مقام پر پانی کا دباؤ خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے، جبکہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درجنوں گاؤں زیرِ آب آگئے ہیں۔ اسی دوران بھارتی ڈیموں سے مسلسل پانی چھوڑے جانے سے سرحدی علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ شہروں میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ سیالکوٹ میں گزشتہ 49 سال کی ریکارڈ بارش کے بعد نواحی علاقے اور پل تباہ ہو گئے ہیں۔ کوٹ مومن میں ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور رینجرز و فوج امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ اسی طرح قصور کے علاقے ہاق والا اور ملحقہ دیہات میں لوگ کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ لاہور میں بھی حالات تشویشناک ہیں، شادرا اور پارک ویو جیسے علاقے پانی میں گھرے ہوئے ہیں اور حکومت نے تعلیمی ادارے 30 اگست تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مزید برآں حکومت اور ریسکیو ادارے مسلسل امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ فوج اور رینجرز کو لاہور، قصور، سیالکوٹ، اوکاڑا اور سرگودھا سمیت کئی اضلاع میں طلب کر لیا گیا ہے۔ Rescue 1122 کے مطابق اب تک 32 ہزار سے زائد افراد اور ہزاروں مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
گزشتہ دنوں پاکستان میں ہونے والی شدید بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات نے خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کو بُری طرح متاثر کیا۔ بنیر سمیت کئی علاقوں میں اچانک آنے والے سیلاب نے درجنوں جانیں لے لیں، سیکڑوں مکانات منہدم ہوئے اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے۔ فصلیں اور سڑکیں تباہ ہو گئیں جبکہ پورا انفراسٹرکچر مفلوج ہو کر رہ گیا۔ یہ قدرتی آفت نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کئی حصوں میں بھی تباہی مچاتی رہی، اور لوگ ابھی تک امداد کے منتظر ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پنجاب میں سیلابی صورتحال ناقابلِ یقین حد تک سنگین ہے اور اگلے 48 گھنٹے نہایت فیصلہ کن ہوں گے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں، دریاؤں کے کنارے جانے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی اداروں سے فوری رابطہ کریں۔ اس وقت متحد ہو کر ہی اس آفت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
📍 English Language Educator | Blogger & Content Strategist | 7+ Years in Educational Blogging
Nosheen Bashir is a dedicated English teacher and experienced blogger with over seven years of expertise in content creation and educational writing. Passionate about language, literature, and effective communication, she combines her teaching experience with blogging skills to create insightful, research-backed content that helps learners and educators alike.
🔹 Expertise & Achievements:
✔ English Language Education: A skilled educator with years of experience in teaching English grammar, literature, and communication skills to students of varying levels.
✔ Educational Blogging: Running a successful blog for 7+ years, delivering well-structured, engaging content on language learning, writing techniques, and academic success.
✔ SEO & Content Strategy: Specializes in creating high-ranking, authoritative articles that follow Google’s EEAT principles, ensuring content that is both informative and search-friendly.
✔ Student-Centric Approach: Committed to making English easier, engaging, and accessible, helping readers and students improve their language proficiency.
🚀 With a passion for teaching and writing, Nosheen Bashir is dedicated to crafting educational content that empowers students, teachers, and language enthusiasts worldwide.