لاہور کے نواح میں واقع پارک ویو سوسائٹی اور اس سے متصل تھیم پارک کا حالیہ سیلابی منظر محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہماری شہری منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
معتبر رپورٹس کے مطابق دریا راوی کے پانی نے چند گھنٹوں میں ان مہنگی ہاؤسنگ اسکیموں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جہاں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی گئی تھی اور جنہیں محفوظ قرار دے کر منظوری دی گئی تھی۔ یہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان میں سٹی اور ٹاؤن پلاننگ کے دوران سیفٹی کورڈز، فلڈ زونز اور حفاظتی معیارات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
جب بڑے شہروں کے کناروں پر ریور بیڈز میں نئی سوسائٹیز کھڑی کی جاتی ہیں تو ایک معمولی طوفانی بارش بھی لاکھوں کی آبادی کو پانی میں ڈبو دیتی ہے اور یہ سارا نظام کرپشن اور غیر شفاف منظوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یہ تصویر صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں اسی طرح کی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ حالیہ 2025 کے مون سون سیلاب نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں درجنوں جانیں لے لیں، ہزاروں مکانات تباہ کیے اور لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔
صرف پنجاب میں ایک اندازے کے مطابق 1.2 ملین لوگ متاثر اور تقریباً تین لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، جب کہ خیبر پختونخوا میں اچانک آنے والے سیلاب نے 300 سے زائد جانیں نگل لیں (AP News)۔ اگر ماضی کی طرف دیکھا جائے تو 2022 کا سیلاب پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ماحولیاتی سانحہ تھا، جس میں 1,739 افراد ہلاک اور تقریباً 33 ملین لوگ متاثر ہوئے، جبکہ ملکی معیشت کو 15 سے 40 بلین ڈالر کے درمیان نقصان اٹھانا پڑا۔
عالمی بینک اور یو این ڈی پی نے اپنی رپورٹس میں واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان ماحولیاتی خطرات کے لیے بروقت تیاری نہیں کرتا تو 2030 تک ہر سال معیشت کو جی ڈی پی کے 5 سے 7 فیصد تک نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ سب حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے مسائل محض بارش یا دریا کے پانی کے بہاؤ سے نہیں بلکہ ناقص حکومتی ترجیحات اور غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں سے بڑھتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک جیسے چین، ترکی اور امریکہ میں شہری توسیع سے پہلے فلڈ زوننگ کی جاتی ہے، سیلابی علاقوں کو محفوظ رکھ کر ہی ہاؤسنگ اسکیموں کو اجازت ملتی ہے اور انفراسٹرکچر کے ساتھ جدید حفاظتی اقدامات کو لازم قرار دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر نیدرلینڈز میں “ڈیلٹا پروگرام” کے تحت ہر دس سال بعد فلڈ پروٹیکشن پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جاتا ہے، جبکہ جاپان میں “ارلی وارننگ سسٹمز” اور ڈیزاسٹر ڈرلز لازمی قرار دی گئی ہیں تاکہ عوام اچانک آنے والے طوفان یا سیلاب میں خود کو بچا سکیں۔
اس کے برعکس پاکستان میں اکثر چھوٹے دیہات قربان کر دیے جاتے ہیں تاکہ بڑے شہروں کو بچایا جا سکے، جو ایک غیر منصفانہ اور غیر اخلاقی طرزِ عمل ہے۔
قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے میں جنگلات بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ صرف پانچ فیصد رہ گیا ہے اور ہر سال تقریباً 11 ہزار ہیکٹر جنگلات کٹ جاتے ہیں (AA News)۔ یہ شرح جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک جیسے نیپال اور بھوٹان کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جہاں جنگلات کے تحفظ پر خصوصی قوانین اور کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
اگر پاکستان بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائے، بلدیاتی سطح پر ماحولیاتی کمیٹیاں قائم کرے اور درختوں کے کٹاؤ پر سخت پابندیاں عائد کرے تو یہ نہ صرف لینڈ سلائیڈنگ اور فلڈ کے اثرات کو کم کر سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی توازن کی بحالی میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اور پہلو جسے نظرانداز کیا جاتا ہے وہ شہری انفراسٹرکچر میں نکاسی آب کا ناقص نظام ہے۔ لاہور، کراچی اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں نکاسی کا نظام کئی دہائیوں پرانا ہے، جہاں معمولی بارش بھی سڑکوں کو تالاب بنا دیتی ہے۔
اگر بارش کے پانی کے لیے علیحدہ ریزروائرز اور اسٹورج سسٹم تیار کیے جائیں تو یہ پانی بعد میں زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے اور سیلاب کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا یہ بحران ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا ہم ہر چند سال بعد ایک نئی تباہی کے بعد افسوس کرنے کے لیے رہ گئے ہیں یا پھر ترقی یافتہ دنیا کی طرح بروقت منصوبہ بندی، فلڈ زوننگ، نکاسی آب کے جدید سسٹمز، جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی اقدامات کے ذریعے اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانے کا راستہ اختیار کریں گے۔ یہ محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک حکومتی و معاشرتی امتحان ہے جس میں ناکامی کی قیمت سب سے زیادہ کمزور طبقے ادا کرتے ہیں۔
📍 English Language Educator | Blogger & Content Strategist | 7+ Years in Educational Blogging
Nosheen Bashir is a dedicated English teacher and experienced blogger with over seven years of expertise in content creation and educational writing. Passionate about language, literature, and effective communication, she combines her teaching experience with blogging skills to create insightful, research-backed content that helps learners and educators alike.
🔹 Expertise & Achievements:
✔ English Language Education: A skilled educator with years of experience in teaching English grammar, literature, and communication skills to students of varying levels.
✔ Educational Blogging: Running a successful blog for 7+ years, delivering well-structured, engaging content on language learning, writing techniques, and academic success.
✔ SEO & Content Strategy: Specializes in creating high-ranking, authoritative articles that follow Google’s EEAT principles, ensuring content that is both informative and search-friendly.
✔ Student-Centric Approach: Committed to making English easier, engaging, and accessible, helping readers and students improve their language proficiency.
🚀 With a passion for teaching and writing, Nosheen Bashir is dedicated to crafting educational content that empowers students, teachers, and language enthusiasts worldwide.